145

سوچنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام میں حرام نہیں

اللہ ایک ۔۔۔۔
رسولﷺ ایک۔۔۔۔
کعبہ ایک۔۔۔۔
قرآن ایک۔۔۔۔
تو پھر کیوں نہیں ؟۔۔۔۔
مسلمان ایک۔۔۔۔۔
جی قارئین محترم یہ وہ سوال ہے جو ہر صاحب شعورمسلمان کے ذہن میں اُبھرتاہے اورشاید کروڑوں باردہرایاگیا ہو مگر آج تک اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں پایا ۔جواب نہ مل پانے کی یہ وجہ نہیں کہ کسی کو بھی اس کا جواب معلوم نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ جن کومعلوم ہے وہ زیادہ ترفلاح اُمہ کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مسلکی ،گروہی یا ذاتی مفاد کو ترجیح دیئے ہوئے ہیں اوراس سوال کے اصل جواب کوچھپاجاتے ہیں یا توڑ مروڑکر پیش کردیتے ہیں اورعام طورپرہمارے اکابرین اس سوال کے جواب میں اپنے ٹولے کے سواجو باقی فکری گروہ ہوتے ہیں نااتفاقی کی ساری ذمہ داری اُن پر ڈال دیتے ہیں اس ضمن میں ایک اورعجیب وغریب اورتلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے تمام مسالک کے قائدین جب آپس میں کسی جگہ جمع ہوں تو وہ صورت حال بڑی مضحکہ خیز ہوجاتی ہے بعض دفعہ ان میں سے بعض ایک دوسرے کے ساتھ کھلے عام رسہ کشی شروع کردیتے ہیں اورایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں اوربعض دفع بظاہرامن اتحاداوریگانگت کی خوب باتیں ہوتی ہیں اورسب صلح کُلی کے قائل نظر آتے ہیں مگر جب وہ اپنی اپنی جماعتوں یا اپنے عوام یا صرف اپنے مسلک کے سرخیلوں میں بیٹھتے ہیں تو پھر ایسے تاثرات دیتے ہیں کہ گویا انہوں نے جو بین المسالک اُس محفل ،مجلس یا میٹنگ ،سیمنیار یا کانفرنس وغیرہ میں شرکت کی تھی تو وہاں پر اپنے مسلک کا خوب دفاع کیا اورفلاں فلاں کو دھول چٹا دی اورپھر وہ اس طرح کے خودساختہ واقعات سناتے ہیں کہ ہم مسلکوں میں واہ واہ ہواٹھتی ہے۔
آخر یہ دورنگی کیوں؟۔۔۔دراصل یہ سوال بھی اپنے آپ میں بہت وسیع اورگہراہے مگر مختصرا اس کا جواب عرض ہے کہ ہرمسلک کے اکابرین علماء اورمصلحین دراصل خودہی فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہیں کیونکہ انہی جیسے کسی نے اُس فرقہ کی بنیادرکھی ہوتی ہے اورپھر فرقہ پروری ہی سے ان لوگوں کی شکم پروری ہوتی ہے اوردراصل یہ سب کچھ پاپی پیٹ کی خاطر ہوتا ہے۔
ان سب دُکھ بھری باتوں کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ ہرمسلک میں چندعلمائے حق بھی ہوتے ہیں وہ بکاؤ نہیں ہوتے دین اُنکی روٹی روزی نہیں ہوتا بلکہ اُنکی روح کی غذاہوا کرتا ہے جی ہاں۔۔۔۔اب کچھ دوست مجھے کہیں گے کہ ہرمسلک میں علمائے حق کیسے ہوسکتے ہیں کیونکہ ہرمسلک ہی حق نہیں ہوسکتا مسلک تو کوئی ایک حق ہے؟۔۔۔۔
تو میں عرض کروں گا کہ یہ سوچ ٹھیک نہیں ہے بلکہ حقیقت یہی ہے کہ ہر وہ انسان حق پر ہے جسکا خمیر’’خیر‘‘سے اُٹھا ہے۔
مسلک یا گروہ محض اجتہادی بنیادوں پرقائم کئے گئے ہیں اوریوں بھی مسالک کو صریحا غلط بھی نہیں کہاجاسکتا دراصل مسالک تو دین کو سمجھنے کی اپنی اپنی کوشش اورسعی کا نام ہے اوراس کوشش اورسعی کو خالص حصول رضائے الہی تلاش حق کیلئے کیا جائے تو عین عبادت اکبر ہے لیکن یہی کوشش محض اللہ کی مخلوق کو بانٹنے اوراپنی ہنڈیا چڑھا نے کی نیت سے ہو تو پھر سب سے کریح اورمذموم گناہ ہے۔اب جو تو یہ سعی او

ل الذکر نیت سے کرتا ہے تووہ چاہے آج جس بھی مسلک میں کھڑا ہے حق ہے اورآخر الذکر نیت والا چاہے جس بھی مسلک میں ہے باطل ہے فرض کریں اگر کوئی ایک مسلک ہی سچ اورحق ہے تب بھی ہمارا یہ ایمان ہے کہ جو نیک نیتی سے تلاش حق میں نکلے گا تو یقیناًیقیناًیقیناًاُس کا خاتمہ بالخیر ہو گا کیونکہ یہ ہمارے خالق کا اپنا وعدہ ہے مالک اپنی راہ پر ایک قدم آنے والے کا استقبال دس قدم آگے بڑھ کرفرماتا ہے اورخوداعلان فرماتا ہے’’ جس نے مجھے سچے من سے طلب کیا بس اُس نے مجھے پالیا‘‘توطلب حق ہے تو پھر بہر صورت حق مل جائے گا آقاحسین ؑ کے ساتھ مکہ سے کربلا تک آنے والا ’’ضحاک ‘‘بظاہر لشکر حسینیؑ کا مجاہد آخر کار جب معرکہ حق وباطل درپیش ھواتوحق سے نکل کر باطل کی طرف آگیا ۔اور’’حُر‘‘آخیر تک بظاہر سپاہِ یزید کا فوجدارتھا مگر کیسے خوبصورت اورقابل رشک انجام سے دوچارہوئے زمانہ جانتا ہے تو بھائیو! کسی مسلک یا گروہ کا ظاہری ٹیگ یا تمغہ سجانے سے نہ کوئی حق ہوجاتا ہے اورنہ ہی کوئی باطل۔ دلوں کا حال محض جاننے والا علیم جانتا ہے۔
بہرحال ہمیں بھی اس چیز کو یادرکھنا چاہیے کہ کسی سے اجتہادی اختلافات کرتے ہوئے اپنے لئے حدود متعین کریں اوراپنی اپنی تحقیق کو محض اپنی تحقیق سمجھیں سب کے لئے واجب الاطاعت قرارنہ دیں کیونکہ جب ہم اپنی اپنی تحقیق یااُن کی تحقیق جن کی ہم تقلید کرتے ہیں کو ہی قابل اطاعت سمجھیں گے توپھر ہمارا دائرہ سمٹ کر صرف وہی کچھ رہ جاتا ہے اورہم اُس دائرے سے باہر ہر چیزکوباطل قراردے دیتے ہیں حالانکہ کہ ہمارے آقابانی ء اسلام ﷺ کا منشاء بھی ہمیں صرف اورصرف ایک اللہ کی پرستش کروانا ہی ہے۔گروہی یا مسلکی کیا مذہب پرستی بھی رواء نہیں رکھی گئی اہل اللہ نے ہمیں صرف اورصرف اللہ پرستی سکھائی ہے اوراسی کی رہنما ئی ہم نے مصطفی کریم ﷺ سے حاصل کی طبقہ ء اہلبیت اطہارؑ اورجماعت صحابہؓ نے ہمیں یہی تعلیم دی اوربزرگان عظام ؒ کی بارگاہوں سے ہمیں یہی درس ملا۔
اب خرابی وہاں ہوئی کہ جن کا پیچھے ذکرہوا کہ کچھ ایسے عناصرآگئے کہ جنہوں نے گروہوں کی ایجادمادہ پرستی کیلئے کی یہ لوگ بھی روزاول سے موجود ہیں ہر زمانے میں رہے اورطلوع اسلام کے بعد بھی موجود رہے آج بھی ہیں ورنہ کیوں اللہ پرستی کے سوا کچھ ہوتا مگر چلیئے اس سے آگے بھی ساتھ ساتھ چلنے کی کوشش کرتے ہیں ہم بطور مسلمان تمام مذہبی گروہوں کی متبرک ہستیوں کا احترام کرتے ہیں ہمارے اللہ اوررسول ﷺ کا یہی حکم ہے ہم سب کو مانتے ہیں ہمیں امنتُ باللہ وکُتبہ رُسُولہ پڑھایا گیا ہے ہمیں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ کسی کے صریحا جھوٹے خدا کو بھی جھوٹا نہ کہو اورماضی کے گُزرے اچھوں کو اچھا کہو خود ہمارے آقا نے فرمایا کہ’’میں اللہ کا شکر ادا کرتاہوں جس نے مجھے نوشیروان جیسے عادل حکمران کے عہد میں پیداکیا‘‘جو بظاہر آتش پرست تھا ہمارے آقاﷺ نے حاتم طائی کو سہرایا فراغ دلی ملاحظہ فرمائیے کہ ہمارے آقا نے ہر قل کی تعریف فرمائی اورقیصر روم کی فتح کیلئے دعا فرمائی جو نصرانی تھے اوریثرب کے یہود کے ساتھ میثاق فرمایا مکہ کے بُت پرستوں کے ساتھ عہدنامہ کیا تین سو پینسٹھ بتوں کے مندرکودارالامان قراردیا اوراُسکے پروہت کے گھر کو سلامتی دی ۔یہ ہے ہماری وسعت قلبی ۔۔۔۔اسی ناطے سے ہم مسلمان شری رام چندرجی مہاراج اورشری کرشن جی کو متبرک ہستیاں مان کر اُن کا احترام کرتے ہیں تو کیا ہندو ہمیں ہندُو مانتا ہے؟
ہم مسلمان مہاتمابُدھ کی عظمت کے دل وجان سے قائل ہیں تو کیا بُدھ مت کے ماننے والے ہمیں ’’بودھ‘‘مانتے ہیں؟ہم جناب زرتشت کوعظیم پیغمبر مانتے ہیں تو کیاپارسی ہمیں ’’پارسی‘‘سمجھتے ہیں؟ہم سیدنا عزیزؑ اورحضرت موسی کلیم اللہ ؑ کی نبوت ورسالت پر کامل ایمان رکھتے ہیں اورخدائے ابراہیم کی عبادت کرتے ہیں تو کیا یہودی ہمیں یہودی مانتے ہیں؟ہم سیدنا عیسٰی ؑ کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے’’یسوع‘‘بھی مانتے ہیں اور’’مسیح‘‘بھی مانتے ہیں اور’’موعود‘‘بھی ’’ناصر‘‘بھی اور’’روح اللہ‘‘بھی کیامسیحی ہمیں ’’مسیحی‘‘مانتے ہیں؟حتی کہ ہم بابا گرونانک جی کو رب کی راہ کا بزرگ مانتے ہیں اورمسلمان اُنکا احترام کرتا ہے تو کیا ’’سِکھ‘‘ہمیں’’خالصہ‘‘مانتے ہیں؟جی ہاں۔۔۔یہ سب وہی سوالات ہیں جن میں دراصل ہمارے آغازکے سوال کا جواب چُھپا ہوا ہے جی ہاں۔۔۔مندرجہ بالا تمام سوالوں کا جواب نفی میں آئے گا۔۔توپھرآپ خودسوچیں کہ رام ،کرشن ،بدھ ،رزشت ،عزیزؑ وموسی ؑ اورگرونانک کو مان کربھی ایک مسلمان یادیگرانسان کو ہندو ،بدھ ،پارسی ،یہودی ،عیسائی یاسکھ نہیں مانا جاتا ۔۔غورکریں۔۔۔یہ کمال کی عجیب بات ہے ناں ؟توپھر یہ بات واضح ہوگئی کہ ان تمام مذاہب کے بڑے دوھائی تو اپنے اپنے مذہب کی ان مقدس ہستیوں کو ماننے کی دے رہے ہیں اورہرکوئی اپنے مذہب کے اندراس لئے ہی ہے کہ وہ اپنی اپنی ان ہستیوں کو مان رہا ہے اس لئے وہ اپنے آپ کو کسی ایک دھرم مذہب کا ماننے والا ظاہر کرتا ہے جبکہ ہم ان تمام کو مان کر بھی ان تمام مذاہب ماننے والوں کے نزدیک تو’’غیر‘‘ہیں ۔۔۔کیوں؟جی ہاں اب ایک اورسوال پیداہوگیا کہ ایسا کیوں؟تو جوابا عرض ہے کہ وہ اسلیئے کہ ان تمام مذاہب نے مذکورہ تمام ہستیوں کومنوانے کا محض دکھلاوا کیا ہوا ہے۔دراصل اُن کا منشاء اُس ضابطہ کو منوانے کا ہے جو انہوں نے خود بنایا ہے۔کوئی رام اورکرشن کو مانتا رہے مگرتب تک ہندونہیں ہوسکتا جب تک ہندو مت کو اُسکے مطابق نہ مانے جو پنڈتوں پروہتوں نے ترتیب دیا ۔
عیسیؑ کو جتنا مرضی مان لو۔مگر عیسائیت کے نصاب کو نہیں مانو گے تو’’مسیحی‘‘نہیں مانے جاوگے تو اب بتائیے کہ ترجیح ہستیوں کو منوانے کو دی جارہی ہے یا اپنے اپنے مخصوص سلیبس کو ۔۔؟اوریہی اپنے اپنے نصاب اپنے اپنے دائرے ہیں۔اوراسی لئے ان دائروں میں رہنے والوں کو ان دائروں سے باہر سب کچھ باطل نظرآتاہے۔
اب ہم اپنے ابتدائی سوال کے جواب کے بالکل قریب آگئے ہیں بالکل اسی طرح اوراسی طرزپر طلوع اسلام کے بعد ہم نے اپنے اپنے دائرے لگائے اورپھران دیگران کی ہی طرح اپنی اپنی دائرہ پرستی شروع کردی۔جی ہاں ۔۔۔یہی جواب ہے اس سوال کا۔ ذرا دل ودماغ کھول کرسُنیئے جو جو بیماریاں دیگران کو لاحق ہوئیں وہی ہمیں ہوچکی ہیں آج ہم اللہ کی توحید پر ایمان رکھنے والے رسول ﷺ کی رسالت پر ایقان رکھنے والے اہلیبیتؑ کی طہارت وارفعیت کے قائل ،صحابہؓ کی عظمت وفوقیت کا اقرارکرنے والے کعبہ کو بیت اللہ اورقرآن کو کلام اللہ تسلیم کرنیوالے کومحض اس لئے مسلمان تسلیم کرنے کیلئے تیارنہیں ہیں کیونکہ وہ ہماری اپنی تیارکی ہوئی نصابی کتابوں کا پابند نہیں اورہمارے ذاتی طریقے کاقائل نہیں ۔ہمیں کیاوہ اللہ کی بندگی کرتا ہے توکرتا رہے۔وہ رسول ﷺ کی پیروی کرتا ہے تو کرتارہے ۔وہ اہلیبیت ؑ کی مودت رکھتا ہے تورکھے وہ جماعت صحابہؓ کی اطاعت کرتا ہے تو کرے ۔وہ کعبہ کو جبینوں سے سجاتا ہے تو سجائے ۔وہ قرآن کو سینے سے لگاتا ہے تو لگائے۔مگر ۔۔۔وہ ہماری طرح تو نہیں سوچتا۔ وہ ہمارے گروہ کو نہیں مانتا ۔۔۔اُسکا چندہ ہماری مسجد میں نہیں آتا ۔۔۔وہ ہماری اقتداء میں تو شبینہ ،میلاد ،محفل یامجلس نہیں کرواتا۔۔۔توپھر وہ کیسے ’’مسلمان ‘‘ہوسکتا ہے ؟سوچیئے ۔۔۔۔کہ سوچنا اسلام میں حرام نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں