عنوان: یکم مئی یومِ مزدور،تاریخ اور ہم تحریر: رانا محمد افضل – rana.afzal990@gmail.com 0300-6060990 دن بھر کڑکتی دھوپ میں کرتا رہا جو کام اجرت ملی تو ہاتھ کے چھالوں پہ روپڑا یکم مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا دن منایا جاتا ہے یہ واحد دن ہے ، جس دن دنیا کی اکثریت بلا تفریق مذہب ، رنگ و نسل ،ملک ، زبان شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں چھٹی کرتے ہیں۔ سوائے امریکہ اور کینیڈا وہاں ستمبر کے پہلے Monday کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ لیبر ڈے کا پس منظر: یورپ و امریکہ میں صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دار طبقہ پیدا ہوا ، جس نے مزدوروں کا استحصال کرنا شروع کر دیا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے۔ مزدوروں سے 18 گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور کوئی چھٹی نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ کام کرنے کی جگہوں کے حالات نہایت خراب تھے ۔اس ظلم ، جبر ، غلامانہ طریقہ کار سے طبقاتی کشمکش پیدا ہوئی۔ جس سے دنیا بھر کی طرح امریکہ میں بھی مزدور تحریک کا آغاز ہوا یکم مئی 1886 کو تمام امریکہ میں مزدوروں نے ہڑتال کردی۔ یہ ہڑتال نہایت کامیاب اور پرامن رہی۔ 3 مئی کو پرامن ہڑتال جاری تھی کہ پولیس ایک فیکٹری میں گھس گئی اور 6/7 مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 4 مئی کو شکاگو Hey-Market کا واقعہ ہوا ۔مزدور تحریک کا اصل باب یہی واقعہ ہے جس کے نہایت دور رس نتائج برآمد ہوئے۔ اس کی تفصیلات بہت طویل اور پیچیدہ ہیں جس پر دنیا بھر میں بہت کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔واقعات کی ترتیب بہت طویل ہے جیسے مزدوروں کی پرامن ریلی ، بم پھینک کر مزدوروں پر فائرنگ ، گرفتاریاں ، مقدمے کی کارروائی ، عدالتی فیصلے وغیرہ وغیرہ 3 مئی کو پولیس کی فائرنگ سے مزدوروں کی ہلاکت پر احتجاج کرنے کے لئے 4 مئی کو شکاگو میں واقع Hey-Market میں مزدوروں نے پرامن ریلی نکالی تمام مزدوروں کی زبان پر ایک ہی ترانہ تھا۔ “Eight hours work day.” 4 مئی کی شام کو مزدور رہنماؤں نے جلسے سے تقاریر شروع کیں ۔ رات 10,30 بجے تقریر جاری تھی کہ پولیس آن پہنچی پولیس کو سرمایہ داروں نے پہلے ہی بہت زیادہ پیسوں کی فنڈنگ کر رکھی تھی پولیس نے خود دستی بم پھینکا جس سے ایک پولیس والا ہلاک چھ زخمی ہوگے اور اسکا الزام مزدوروں پر لگا دیا۔ اس کے بعد پولیس نے مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جس سے کئی مزدور ہلاک و زخمی ہوئے۔ انہی زخمی مزدوروں میں سے ایک مزدور نے اپنی خون آلود قمیض کو ہوا میں لہرایا اور سرخ رنگ مزدوروں کا علامتی رنگ بن گیا اس ہنگامہ آرائی میں 6 پولیس والے اور 4 مزدور ہلاک ہوگئے۔ یہی سے مزدور تحریک کا آغاز ہوا جو ہم ہر سال یکم مئی کو مناتے ہیں۔ بعد میں مزدور رہنماؤں پر عدالتی مقدمے بنے عمر قید پھانسیاں ہوئیں۔ 11 نومبر 1887 کو مزدور رہنما اینجل ، فشر ، پارسن اور اسپائز کو پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی سے پہلے اسپائز نے کہا ، “غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گیں۔” فشر نے کہا “ہم خوش ہیں کہ ہم ایک اچھے مقصد کے لئے جان دے رہے ہیں” شاعر ، افسانہ نگار آسکر وائلڈ ، ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شا ، شاعر ولیم مورس ، ناول نگار ولیم ڈین ہوویل جیسے لوگوں نے اس مقدمہ کے فیصلے کی مذمت کی ۔ 1893 میں جب نیا ترقی پسند گورنر جان پیٹر ایلٹگیلٹ آ یا تو اس نے عمر قید والوں کی معافی دے دی بلکہ اس مقدمہ کی مذمت بھی کی۔ اس کی بعد باقاعدہ 1889 میں ریمنڈ لیون کی تجویز پر 1890 میں شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں پہلی مرتبہ یکم مئی منایا گیا۔ اور مزدوروں نے اپنی تحریک اور قربانیاں سے بہت سے نتائج حاصل کیے۔ 1۔ مزدوروں کے لئے 8 گھنٹے کام کے وقت کا تعین کیا گیا۔ 2۔ مزدوروں کے لئے ہفتہ وار چھٹی کا قانون بنایا گیا۔ 3۔ مزدوروں کو انجمن سازی یعنی ٹریڈ یونین کا حق دیا گیا ۔ 4 ۔ مزدوروں کو ملازمت کے تحفظ کا حق دیا گیا۔ 5 ۔ مزدوروں کے مقدمات کی سماعت کے لئے علیحدہ لیبر کورٹ قائم کی گئیں۔ 6 ۔ خواتین ورکرز کو دوران حمل خصوصی چھٹیوں کا قانون بنایا گیا وغیرہ وغیرہ ہم پاکستان میں اس قربانی کے لئے یوم مزدور مناتے ہیں ان کے نام پر سکون سے چھٹی انجوائے کرتے ہیں لیکن مزدور بے چارے کو سارا دن عزت کی روٹی کمانے کیلئے بے عزت ہونا پڑتا ہے۔ہم یکم مئی یوم مزدور کے نام پر فائیو سٹار ہوٹلوں میں لاکھوں کےخرچ کے ساتھ ہونے والے پروگراموں میں کسی مزدور کو کھانا کھانے کے لئے بھیج کر دیکھیں۔منافقت کے پردے چاک ہو جائیں گے۔ مہنگے ہوٹلوں میں مہنگے لباس زیب تن کر کے مزدور کے غم میں مگر مچھ کے ٹسوے بہانے سے بہتر ہے کہ مزدور اور محنت کش کے حقوق قائم کرنے والا بے غبار عادلانہ معاشی نظام قائم کیا جائے ۔ اِس ملک میں قانونِ معیشت جو روا ہے جنگل سے بھی بدتر بڑی ظلمت کی فَضا ہے تعلیم کا مو قع ہے نہ آسان ہے جینا پانی بھی یہاں صاف مُیسر نہیں پینا ویسے تو منا لیتے ہیں مزدور کا دن سب دیکھو تو سہی مل گئے کیا حق بھی اُنہیں اب دُبئی: جائیداد کے معاملے پر بھائی نے بہن پر حملہ کر دیا ملزم حملہ کرنے، دھمکیاں دینے اور نشہ کرنے کے الزام میں گرفتا صدر پاکستان مسلم لیگ ن حلقہ پی پی 165 لاہور رانا عدیل کا لاہور کالج کا دورہ۔ ہائیکورٹ بینچ سرگودھا ڈویژن کے عوام کا حق ہے،شہزاد علیم ایڈوکیٹ بانگ حق ٹی وی کے آئی ٹی انچارج چوہدری اسد احمد خاں کی پاکستان کے مایہ ناز ٹی وی اینکر سید اقرارالحسن سے ملاقات لاہور ہائی کورٹ بینچ کا سرگودھامیں قیام ہمارا حق ہے اوروکلاء کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ معروف قانون دان،وکیل رہنما سولیسٹر رانا شہزاد علیم خاں یو اے ای میں 5 ہزارسوشل میڈیا اکاؤنٹ بند یاسرشاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا بیاسی سال پرانا ریکارڈ توڑدیا سرگودھا: باپ نے ‘عامل کے کہنے پر’ ڈیڑھ سالہ بچی کو تیز دھار آلے سے قتل کردیا صحت سے جڑی 13 ایسی مثالیں جو صرف وہم ہیں

عنوان: یکم مئی یومِ مزدور،تاریخ اور ہم تحریر: رانا محمد افضل – rana.afzal990@gmail.com 0300-6060990 دن بھر کڑکتی دھوپ میں کرتا رہا جو کام اجرت ملی تو ہاتھ کے چھالوں پہ روپڑا یکم مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا دن منایا جاتا ہے یہ واحد دن ہے ، جس دن دنیا کی اکثریت بلا تفریق مذہب ، رنگ و نسل ،ملک ، زبان شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں چھٹی کرتے ہیں۔ سوائے امریکہ اور کینیڈا وہاں ستمبر کے پہلے Monday کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ لیبر ڈے کا پس منظر: یورپ و امریکہ میں صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دار طبقہ پیدا ہوا ، جس نے مزدوروں کا استحصال کرنا شروع کر دیا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے۔ مزدوروں سے 18 گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور کوئی چھٹی نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ کام کرنے کی جگہوں کے حالات نہایت خراب تھے ۔اس ظلم ، جبر ، غلامانہ طریقہ کار سے طبقاتی کشمکش پیدا ہوئی۔ جس سے دنیا بھر کی طرح امریکہ میں بھی مزدور تحریک کا آغاز ہوا یکم مئی 1886 کو تمام امریکہ میں مزدوروں نے ہڑتال کردی۔ یہ ہڑتال نہایت کامیاب اور پرامن رہی۔ 3 مئی کو پرامن ہڑتال جاری تھی کہ پولیس ایک فیکٹری میں گھس گئی اور 6/7 مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 4 مئی کو شکاگو Hey-Market کا واقعہ ہوا ۔مزدور تحریک کا اصل باب یہی واقعہ ہے جس کے نہایت دور رس نتائج برآمد ہوئے۔ اس کی تفصیلات بہت طویل اور پیچیدہ ہیں جس پر دنیا بھر میں بہت کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔واقعات کی ترتیب بہت طویل ہے جیسے مزدوروں کی پرامن ریلی ، بم پھینک کر مزدوروں پر فائرنگ ، گرفتاریاں ، مقدمے کی کارروائی ، عدالتی فیصلے وغیرہ وغیرہ 3 مئی کو پولیس کی فائرنگ سے مزدوروں کی ہلاکت پر احتجاج کرنے کے لئے 4 مئی کو شکاگو میں واقع Hey-Market میں مزدوروں نے پرامن ریلی نکالی تمام مزدوروں کی زبان پر ایک ہی ترانہ تھا۔ “Eight hours work day.” 4 مئی کی شام کو مزدور رہنماؤں نے جلسے سے تقاریر شروع کیں ۔ رات 10,30 بجے تقریر جاری تھی کہ پولیس آن پہنچی پولیس کو سرمایہ داروں نے پہلے ہی بہت زیادہ پیسوں کی فنڈنگ کر رکھی تھی پولیس نے خود دستی بم پھینکا جس سے ایک پولیس والا ہلاک چھ زخمی ہوگے اور اسکا الزام مزدوروں پر لگا دیا۔ اس کے بعد پولیس نے مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جس سے کئی مزدور ہلاک و زخمی ہوئے۔ انہی زخمی مزدوروں میں سے ایک مزدور نے اپنی خون آلود قمیض کو ہوا میں لہرایا اور سرخ رنگ مزدوروں کا علامتی رنگ بن گیا اس ہنگامہ آرائی میں 6 پولیس والے اور 4 مزدور ہلاک ہوگئے۔ یہی سے مزدور تحریک کا آغاز ہوا جو ہم ہر سال یکم مئی کو مناتے ہیں۔ بعد میں مزدور رہنماؤں پر عدالتی مقدمے بنے عمر قید پھانسیاں ہوئیں۔ 11 نومبر 1887 کو مزدور رہنما اینجل ، فشر ، پارسن اور اسپائز کو پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی سے پہلے اسپائز نے کہا ، “غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گیں۔” فشر نے کہا “ہم خوش ہیں کہ ہم ایک اچھے مقصد کے لئے جان دے رہے ہیں” شاعر ، افسانہ نگار آسکر وائلڈ ، ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شا ، شاعر ولیم مورس ، ناول نگار ولیم ڈین ہوویل جیسے لوگوں نے اس مقدمہ کے فیصلے کی مذمت کی ۔ 1893 میں جب نیا ترقی پسند گورنر جان پیٹر ایلٹگیلٹ آ یا تو اس نے عمر قید والوں کی معافی دے دی بلکہ اس مقدمہ کی مذمت بھی کی۔ اس کی بعد باقاعدہ 1889 میں ریمنڈ لیون کی تجویز پر 1890 میں شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں پہلی مرتبہ یکم مئی منایا گیا۔ اور مزدوروں نے اپنی تحریک اور قربانیاں سے بہت سے نتائج حاصل کیے۔ 1۔ مزدوروں کے لئے 8 گھنٹے کام کے وقت کا تعین کیا گیا۔ 2۔ مزدوروں کے لئے ہفتہ وار چھٹی کا قانون بنایا گیا۔ 3۔ مزدوروں کو انجمن سازی یعنی ٹریڈ یونین کا حق دیا گیا ۔ 4 ۔ مزدوروں کو ملازمت کے تحفظ کا حق دیا گیا۔ 5 ۔ مزدوروں کے مقدمات کی سماعت کے لئے علیحدہ لیبر کورٹ قائم کی گئیں۔ 6 ۔ خواتین ورکرز کو دوران حمل خصوصی چھٹیوں کا قانون بنایا گیا وغیرہ وغیرہ ہم پاکستان میں اس قربانی کے لئے یوم مزدور مناتے ہیں ان کے نام پر سکون سے چھٹی انجوائے کرتے ہیں لیکن مزدور بے چارے کو سارا دن عزت کی روٹی کمانے کیلئے بے عزت ہونا پڑتا ہے۔ہم یکم مئی یوم مزدور کے نام پر فائیو سٹار ہوٹلوں میں لاکھوں کےخرچ کے ساتھ ہونے والے پروگراموں میں کسی مزدور کو کھانا کھانے کے لئے بھیج کر دیکھیں۔منافقت کے پردے چاک ہو جائیں گے۔ مہنگے ہوٹلوں میں مہنگے لباس زیب تن کر کے مزدور کے غم میں مگر مچھ کے ٹسوے بہانے سے بہتر ہے کہ مزدور اور محنت کش کے حقوق قائم کرنے والا بے غبار عادلانہ معاشی نظام قائم کیا جائے ۔ اِس ملک میں قانونِ معیشت جو روا ہے جنگل سے بھی بدتر بڑی ظلمت کی فَضا ہے تعلیم کا مو قع ہے نہ آسان ہے جینا پانی بھی یہاں صاف مُیسر نہیں پینا ویسے تو منا لیتے ہیں مزدور کا دن سب دیکھو تو سہی مل گئے کیا حق بھی اُنہیں اب

عنوان: یکم مئی یومِ مزدور،تاریخ اور ہم تحریر: رانا محمد افضل – rana.afzal990@gmail.com 0300-6060990 دن بھر کڑکتی دھوپ میں کرتا رہا جو کام اجرت ملی تو ہاتھ کے چھالوں پہ روپڑا یکم مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا دن منایا جاتا ہے یہ واحد دن ہے ، جس دن دنیا کی اکثریت بلا تفریق مذہب ، رنگ و نسل ،ملک ، زبان شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں چھٹی کرتے ہیں۔ سوائے امریکہ اور کینیڈا وہاں ستمبر کے پہلے Monday کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ لیبر ڈے کا پس منظر: یورپ و امریکہ میں صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دار طبقہ پیدا ہوا ، جس نے مزدوروں کا استحصال کرنا شروع کر دیا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے۔ مزدوروں سے 18 گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور کوئی چھٹی نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ کام کرنے کی جگہوں کے حالات نہایت خراب تھے ۔اس ظلم ، جبر ، غلامانہ طریقہ کار سے طبقاتی کشمکش پیدا ہوئی۔ جس سے دنیا بھر کی طرح امریکہ میں بھی مزدور تحریک کا آغاز ہوا یکم مئی 1886 کو تمام امریکہ میں مزدوروں نے ہڑتال کردی۔ یہ ہڑتال نہایت کامیاب اور پرامن رہی۔ 3 مئی کو پرامن ہڑتال جاری تھی کہ پولیس ایک فیکٹری میں گھس گئی اور 6/7 مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 4 مئی کو شکاگو Hey-Market کا واقعہ ہوا ۔مزدور تحریک کا اصل باب یہی واقعہ ہے جس کے نہایت دور رس نتائج برآمد ہوئے۔ اس کی تفصیلات بہت طویل اور پیچیدہ ہیں جس پر دنیا بھر میں بہت کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔واقعات کی ترتیب بہت طویل ہے جیسے مزدوروں کی پرامن ریلی ، بم پھینک کر مزدوروں پر فائرنگ ، گرفتاریاں ، مقدمے کی کارروائی ، عدالتی فیصلے وغیرہ وغیرہ 3 مئی کو پولیس کی فائرنگ سے مزدوروں کی ہلاکت پر احتجاج کرنے کے لئے 4 مئی کو شکاگو میں واقع Hey-Market میں مزدوروں نے پرامن ریلی نکالی تمام مزدوروں کی زبان پر ایک ہی ترانہ تھا۔ “Eight hours work day.” 4 مئی کی شام کو مزدور رہنماؤں نے جلسے سے تقاریر شروع کیں ۔ رات 10,30 بجے تقریر جاری تھی کہ پولیس آن پہنچی پولیس کو سرمایہ داروں نے پہلے ہی بہت زیادہ پیسوں کی فنڈنگ کر رکھی تھی پولیس نے خود دستی بم پھینکا جس سے ایک پولیس والا ہلاک چھ زخمی ہوگے اور اسکا الزام مزدوروں پر لگا دیا۔ اس کے بعد پولیس نے مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جس سے کئی مزدور ہلاک و زخمی ہوئے۔ انہی زخمی مزدوروں میں سے ایک مزدور نے اپنی خون آلود قمیض کو ہوا میں لہرایا اور سرخ رنگ مزدوروں کا علامتی رنگ بن گیا اس ہنگامہ آرائی میں 6 پولیس والے اور 4 مزدور ہلاک ہوگئے۔ یہی سے مزدور تحریک کا آغاز ہوا جو ہم ہر سال یکم مئی کو مناتے ہیں۔ بعد میں مزدور رہنماؤں پر عدالتی مقدمے بنے عمر قید پھانسیاں ہوئیں۔ 11 نومبر 1887 کو مزدور رہنما اینجل ، فشر ، پارسن اور اسپائز کو پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی سے پہلے اسپائز نے کہا ، “غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گیں۔” فشر نے کہا “ہم خوش ہیں کہ ہم ایک اچھے مقصد کے لئے جان دے رہے ہیں” شاعر ، افسانہ نگار آسکر وائلڈ ، ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شا ، شاعر ولیم مورس ، ناول نگار ولیم ڈین ہوویل جیسے لوگوں نے اس مقدمہ کے فیصلے کی مذمت کی ۔ 1893 میں جب نیا ترقی پسند گورنر جان پیٹر ایلٹگیلٹ آ یا تو اس نے عمر قید والوں کی معافی دے دی بلکہ اس مقدمہ کی مذمت بھی کی۔ اس کی بعد باقاعدہ 1889 میں ریمنڈ لیون کی تجویز پر 1890 میں شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں پہلی مرتبہ یکم مئی منایا گیا۔ اور مزدوروں نے اپنی تحریک اور قربانیاں سے بہت سے نتائج حاصل کیے۔ 1۔ مزدوروں کے لئے 8 گھنٹے کام کے وقت کا تعین کیا گیا۔ 2۔ مزدوروں کے لئے ہفتہ وار چھٹی کا قانون بنایا گیا۔ 3۔ مزدوروں کو انجمن سازی یعنی ٹریڈ یونین کا حق دیا گیا ۔ 4 ۔ مزدوروں کو ملازمت کے تحفظ کا حق دیا گیا۔ 5 ۔ مزدوروں کے مقدمات کی سماعت کے لئے علیحدہ لیبر کورٹ قائم کی گئیں۔ 6 ۔ خواتین ورکرز کو دوران حمل خصوصی چھٹیوں کا قانون بنایا گیا وغیرہ وغیرہ ہم پاکستان میں اس قربانی کے لئے یوم مزدور مناتے ہیں ان کے نام پر سکون سے چھٹی انجوائے کرتے ہیں لیکن مزدور بے چارے کو سارا دن عزت کی روٹی کمانے کیلئے بے عزت ہونا پڑتا ہے۔ہم یکم مئی یوم مزدور کے نام پر فائیو سٹار ہوٹلوں میں لاکھوں کےخرچ کے ساتھ ہونے والے پروگراموں میں کسی مزدور کو کھانا کھانے کے لئے بھیج کر دیکھیں۔منافقت کے پردے چاک ہو جائیں گے۔ مہنگے ہوٹلوں میں مہنگے لباس زیب تن کر کے مزدور کے غم میں مگر مچھ کے ٹسوے بہانے سے بہتر ہے کہ مزدور اور محنت کش کے حقوق قائم کرنے والا بے غبار عادلانہ معاشی نظام قائم کیا جائے ۔ اِس ملک میں قانونِ معیشت جو روا ہے جنگل سے بھی بدتر بڑی ظلمت کی فَضا ہے تعلیم کا مو قع ہے نہ آسان ہے جینا پانی بھی یہاں صاف مُیسر نہیں پینا ویسے تو منا لیتے ہیں مزدور کا دن سب دیکھو تو سہی مل گئے کیا حق بھی اُنہیں اب

عنوان: یکم مئی یومِ مزدور،تاریخ اور ہم تحریر: رانا محمد افضل – rana.afzal990@gmail.com 0300-6060990 دن بھر کڑکتی دھوپ میں کرتا رہا جو کام اجرت ملی تو ہاتھ کے چھالوں پہ روپڑا یکم مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا دن منایا جاتا ہے یہ واحد دن ہے ، جس دن دنیا کی اکثریت بلا تفریق مذہب ، رنگ و نسل ،ملک ، زبان شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں چھٹی کرتے ہیں۔ سوائے امریکہ اور کینیڈا وہاں ستمبر کے پہلے Monday کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ لیبر ڈے کا پس منظر: یورپ و امریکہ میں صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دار طبقہ پیدا ہوا ، جس نے مزدوروں کا استحصال کرنا شروع کر دیا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے۔ مزدوروں سے 18 گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور کوئی چھٹی نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ کام کرنے کی جگہوں کے حالات نہایت خراب تھے ۔اس ظلم ، جبر ، غلامانہ طریقہ کار سے طبقاتی کشمکش پیدا ہوئی۔ جس سے دنیا بھر کی طرح امریکہ میں بھی مزدور تحریک کا آغاز ہوا یکم مئی 1886 کو تمام امریکہ میں مزدوروں نے ہڑتال کردی۔ یہ ہڑتال نہایت کامیاب اور پرامن رہی۔ 3 مئی کو پرامن ہڑتال جاری تھی کہ پولیس ایک فیکٹری میں گھس گئی اور 6/7 مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 4 مئی کو شکاگو Hey-Market کا واقعہ ہوا ۔مزدور تحریک کا اصل باب یہی واقعہ ہے جس کے نہایت دور رس نتائج برآمد ہوئے۔ اس کی تفصیلات بہت طویل اور پیچیدہ ہیں جس پر دنیا بھر میں بہت کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔واقعات کی ترتیب بہت طویل ہے جیسے مزدوروں کی پرامن ریلی ، بم پھینک کر مزدوروں پر فائرنگ ، گرفتاریاں ، مقدمے کی کارروائی ، عدالتی فیصلے وغیرہ وغیرہ 3 مئی کو پولیس کی فائرنگ سے مزدوروں کی ہلاکت پر احتجاج کرنے کے لئے 4 مئی کو شکاگو میں واقع Hey-Market میں مزدوروں نے پرامن ریلی نکالی تمام مزدوروں کی زبان پر ایک ہی ترانہ تھا۔ “Eight hours work day.” 4 مئی کی شام کو مزدور رہنماؤں نے جلسے سے تقاریر شروع کیں ۔ رات 10,30 بجے تقریر جاری تھی کہ پولیس آن پہنچی پولیس کو سرمایہ داروں نے پہلے ہی بہت زیادہ پیسوں کی فنڈنگ کر رکھی تھی پولیس نے خود دستی بم پھینکا جس سے ایک پولیس والا ہلاک چھ زخمی ہوگے اور اسکا الزام مزدوروں پر لگا دیا۔ اس کے بعد پولیس نے مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جس سے کئی مزدور ہلاک و زخمی ہوئے۔ انہی زخمی مزدوروں میں سے ایک مزدور نے اپنی خون آلود قمیض کو ہوا میں لہرایا اور سرخ رنگ مزدوروں کا علامتی رنگ بن گیا اس ہنگامہ آرائی میں 6 پولیس والے اور 4 مزدور ہلاک ہوگئے۔ یہی سے مزدور تحریک کا آغاز ہوا جو ہم ہر سال یکم مئی کو مناتے ہیں۔ بعد میں مزدور رہنماؤں پر عدالتی مقدمے بنے عمر قید پھانسیاں ہوئیں۔ 11 نومبر 1887 کو مزدور رہنما اینجل ، فشر ، پارسن اور اسپائز کو پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی سے پہلے اسپائز نے کہا ، “غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گیں۔” فشر نے کہا “ہم خوش ہیں کہ ہم ایک اچھے مقصد کے لئے جان دے رہے ہیں” شاعر ، افسانہ نگار آسکر وائلڈ ، ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شا ، شاعر ولیم مورس ، ناول نگار ولیم ڈین ہوویل جیسے لوگوں نے اس مقدمہ کے فیصلے کی مذمت کی ۔ 1893 میں جب نیا ترقی پسند گورنر جان پیٹر ایلٹگیلٹ آ یا تو اس نے عمر قید والوں کی معافی دے دی بلکہ اس مقدمہ کی مذمت بھی کی۔ اس کی بعد باقاعدہ 1889 میں ریمنڈ لیون کی تجویز پر 1890 میں شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں پہلی مرتبہ یکم مئی منایا گیا۔ اور مزدوروں نے اپنی تحریک اور قربانیاں سے بہت سے نتائج حاصل کیے۔ 1۔ مزدوروں کے لئے 8 گھنٹے کام کے وقت کا تعین کیا گیا۔ 2۔ مزدوروں کے لئے ہفتہ وار چھٹی کا قانون بنایا گیا۔ 3۔ مزدوروں کو انجمن سازی یعنی ٹریڈ یونین کا حق دیا گیا ۔ 4 ۔ مزدوروں کو ملازمت کے تحفظ کا حق دیا گیا۔ 5 ۔ مزدوروں کے مقدمات کی سماعت کے لئے علیحدہ لیبر کورٹ قائم کی گئیں۔ 6 ۔ خواتین ورکرز کو دوران حمل خصوصی چھٹیوں کا قانون بنایا گیا وغیرہ وغیرہ ہم پاکستان میں اس قربانی کے لئے یوم مزدور مناتے ہیں ان کے نام پر سکون سے چھٹی انجوائے کرتے ہیں لیکن مزدور بے چارے کو سارا دن عزت کی روٹی کمانے کیلئے بے عزت ہونا پڑتا ہے۔ہم یکم مئی یوم مزدور کے نام پر فائیو سٹار ہوٹلوں میں لاکھوں کےخرچ کے ساتھ ہونے والے پروگراموں میں کسی مزدور کو کھانا کھانے کے لئے بھیج کر دیکھیں۔منافقت کے پردے چاک ہو جائیں گے۔ مہنگے ہوٹلوں میں مہنگے لباس زیب تن کر کے مزدور کے غم میں مگر مچھ کے ٹسوے بہانے سے بہتر ہے کہ مزدور اور محنت کش کے حقوق قائم کرنے والا بے غبار عادلانہ معاشی نظام قائم کیا جائے ۔ اِس ملک میں قانونِ معیشت جو روا ہے جنگل سے بھی بدتر بڑی ظلمت کی فَضا ہے تعلیم کا مو قع ہے نہ آسان ہے جینا پانی بھی یہاں صاف مُیسر نہیں پینا ویسے تو منا لیتے ہیں مزدور کا دن سب دیکھو تو سہی مل گئے کیا حق بھی اُنہیں اب

عنوان: یکم مئی یومِ مزدور،تاریخ اور ہم تحریر: رانا محمد افضل – rana.afzal990@gmail.com 0300-6060990 دن بھر کڑکتی دھوپ میں کرتا رہا جو کام اجرت ملی تو ہاتھ کے چھالوں پہ روپڑا یکم مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا دن منایا جاتا ہے یہ واحد دن ہے ، جس دن دنیا کی اکثریت بلا تفریق مذہب ، رنگ و نسل ،ملک ، زبان شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں چھٹی کرتے ہیں۔ سوائے امریکہ اور کینیڈا وہاں ستمبر کے پہلے Monday کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ لیبر ڈے کا پس منظر: یورپ و امریکہ میں صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دار طبقہ پیدا ہوا ، جس نے مزدوروں کا استحصال کرنا شروع کر دیا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے۔ مزدوروں سے 18 گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور کوئی چھٹی نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ کام کرنے کی جگہوں کے حالات نہایت خراب تھے ۔اس ظلم ، جبر ، غلامانہ طریقہ کار سے طبقاتی کشمکش پیدا ہوئی۔ جس سے دنیا بھر کی طرح امریکہ میں بھی مزدور تحریک کا آغاز ہوا یکم مئی 1886 کو تمام امریکہ میں مزدوروں نے ہڑتال کردی۔ یہ ہڑتال نہایت کامیاب اور پرامن رہی۔ 3 مئی کو پرامن ہڑتال جاری تھی کہ پولیس ایک فیکٹری میں گھس گئی اور 6/7 مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 4 مئی کو شکاگو Hey-Market کا واقعہ ہوا ۔مزدور تحریک کا اصل باب یہی واقعہ ہے جس کے نہایت دور رس نتائج برآمد ہوئے۔ اس کی تفصیلات بہت طویل اور پیچیدہ ہیں جس پر دنیا بھر میں بہت کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔واقعات کی ترتیب بہت طویل ہے جیسے مزدوروں کی پرامن ریلی ، بم پھینک کر مزدوروں پر فائرنگ ، گرفتاریاں ، مقدمے کی کارروائی ، عدالتی فیصلے وغیرہ وغیرہ 3 مئی کو پولیس کی فائرنگ سے مزدوروں کی ہلاکت پر احتجاج کرنے کے لئے 4 مئی کو شکاگو میں واقع Hey-Market میں مزدوروں نے پرامن ریلی نکالی تمام مزدوروں کی زبان پر ایک ہی ترانہ تھا۔ “Eight hours work day.” 4 مئی کی شام کو مزدور رہنماؤں نے جلسے سے تقاریر شروع کیں ۔ رات 10,30 بجے تقریر جاری تھی کہ پولیس آن پہنچی پولیس کو سرمایہ داروں نے پہلے ہی بہت زیادہ پیسوں کی فنڈنگ کر رکھی تھی پولیس نے خود دستی بم پھینکا جس سے ایک پولیس والا ہلاک چھ زخمی ہوگے اور اسکا الزام مزدوروں پر لگا دیا۔ اس کے بعد پولیس نے مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جس سے کئی مزدور ہلاک و زخمی ہوئے۔ انہی زخمی مزدوروں میں سے ایک مزدور نے اپنی خون آلود قمیض کو ہوا میں لہرایا اور سرخ رنگ مزدوروں کا علامتی رنگ بن گیا اس ہنگامہ آرائی میں 6 پولیس والے اور 4 مزدور ہلاک ہوگئے۔ یہی سے مزدور تحریک کا آغاز ہوا جو ہم ہر سال یکم مئی کو مناتے ہیں۔ بعد میں مزدور رہنماؤں پر عدالتی مقدمے بنے عمر قید پھانسیاں ہوئیں۔ 11 نومبر 1887 کو مزدور رہنما اینجل ، فشر ، پارسن اور اسپائز کو پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی سے پہلے اسپائز نے کہا ، “غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گیں۔” فشر نے کہا “ہم خوش ہیں کہ ہم ایک اچھے مقصد کے لئے جان دے رہے ہیں” شاعر ، افسانہ نگار آسکر وائلڈ ، ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شا ، شاعر ولیم مورس ، ناول نگار ولیم ڈین ہوویل جیسے لوگوں نے اس مقدمہ کے فیصلے کی مذمت کی ۔ 1893 میں جب نیا ترقی پسند گورنر جان پیٹر ایلٹگیلٹ آ یا تو اس نے عمر قید والوں کی معافی دے دی بلکہ اس مقدمہ کی مذمت بھی کی۔ اس کی بعد باقاعدہ 1889 میں ریمنڈ لیون کی تجویز پر 1890 میں شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں پہلی مرتبہ یکم مئی منایا گیا۔ اور مزدوروں نے اپنی تحریک اور قربانیاں سے بہت سے نتائج حاصل کیے۔ 1۔ مزدوروں کے لئے 8 گھنٹے کام کے وقت کا تعین کیا گیا۔ 2۔ مزدوروں کے لئے ہفتہ وار چھٹی کا قانون بنایا گیا۔ 3۔ مزدوروں کو انجمن سازی یعنی ٹریڈ یونین کا حق دیا گیا ۔ 4 ۔ مزدوروں کو ملازمت کے تحفظ کا حق دیا گیا۔ 5 ۔ مزدوروں کے مقدمات کی سماعت کے لئے علیحدہ لیبر کورٹ قائم کی گئیں۔ 6 ۔ خواتین ورکرز کو دوران حمل خصوصی چھٹیوں کا قانون بنایا گیا وغیرہ وغیرہ ہم پاکستان میں اس قربانی کے لئے یوم مزدور مناتے ہیں ان کے نام پر سکون سے چھٹی انجوائے کرتے ہیں لیکن مزدور بے چارے کو سارا دن عزت کی روٹی کمانے کیلئے بے عزت ہونا پڑتا ہے۔ہم یکم مئی یوم مزدور کے نام پر فائیو سٹار ہوٹلوں میں لاکھوں کےخرچ کے ساتھ ہونے والے پروگراموں میں کسی مزدور کو کھانا کھانے کے لئے بھیج کر دیکھیں۔منافقت کے پردے چاک ہو جائیں گے۔ مہنگے ہوٹلوں میں مہنگے لباس زیب تن کر کے مزدور کے غم میں مگر مچھ کے ٹسوے بہانے سے بہتر ہے کہ مزدور اور محنت کش کے حقوق قائم کرنے والا بے غبار عادلانہ معاشی نظام قائم کیا جائے ۔ اِس ملک میں قانونِ معیشت جو روا ہے جنگل سے بھی بدتر بڑی ظلمت کی فَضا ہے تعلیم کا مو قع ہے نہ آسان ہے جینا پانی بھی یہاں صاف مُیسر نہیں پینا ویسے تو منا لیتے ہیں مزدور کا دن سب دیکھو تو سہی مل گئے کیا حق بھی اُنہیں اب

عنوان: یکم مئی یومِ مزدور،تاریخ اور ہم تحریر: رانا محمد افضل – rana.afzal990@gmail.com 0300-6060990 دن بھر کڑکتی دھوپ میں کرتا رہا جو کام اجرت ملی تو ہاتھ کے چھالوں پہ روپڑا یکم مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا دن منایا جاتا ہے یہ واحد دن ہے ، جس دن دنیا کی اکثریت بلا تفریق مذہب ، رنگ و نسل ،ملک ، زبان شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں چھٹی کرتے ہیں۔ سوائے امریکہ اور کینیڈا وہاں ستمبر کے پہلے Monday کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ لیبر ڈے کا پس منظر: یورپ و امریکہ میں صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دار طبقہ پیدا ہوا ، جس نے مزدوروں کا استحصال کرنا شروع کر دیا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے۔ مزدوروں سے 18 گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور کوئی چھٹی نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ کام کرنے کی جگہوں کے حالات نہایت خراب تھے ۔اس ظلم ، جبر ، غلامانہ طریقہ کار سے طبقاتی کشمکش پیدا ہوئی۔ جس سے دنیا بھر کی طرح امریکہ میں بھی مزدور تحریک کا آغاز ہوا یکم مئی 1886 کو تمام امریکہ میں مزدوروں نے ہڑتال کردی۔ یہ ہڑتال نہایت کامیاب اور پرامن رہی۔ 3 مئی کو پرامن ہڑتال جاری تھی کہ پولیس ایک فیکٹری میں گھس گئی اور 6/7 مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 4 مئی کو شکاگو Hey-Market کا واقعہ ہوا ۔مزدور تحریک کا اصل باب یہی واقعہ ہے جس کے نہایت دور رس نتائج برآمد ہوئے۔ اس کی تفصیلات بہت طویل اور پیچیدہ ہیں جس پر دنیا بھر میں بہت کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔واقعات کی ترتیب بہت طویل ہے جیسے مزدوروں کی پرامن ریلی ، بم پھینک کر مزدوروں پر فائرنگ ، گرفتاریاں ، مقدمے کی کارروائی ، عدالتی فیصلے وغیرہ وغیرہ 3 مئی کو پولیس کی فائرنگ سے مزدوروں کی ہلاکت پر احتجاج کرنے کے لئے 4 مئی کو شکاگو میں واقع Hey-Market میں مزدوروں نے پرامن ریلی نکالی تمام مزدوروں کی زبان پر ایک ہی ترانہ تھا۔ “Eight hours work day.” 4 مئی کی شام کو مزدور رہنماؤں نے جلسے سے تقاریر شروع کیں ۔ رات 10,30 بجے تقریر جاری تھی کہ پولیس آن پہنچی پولیس کو سرمایہ داروں نے پہلے ہی بہت زیادہ پیسوں کی فنڈنگ کر رکھی تھی پولیس نے خود دستی بم پھینکا جس سے ایک پولیس والا ہلاک چھ زخمی ہوگے اور اسکا الزام مزدوروں پر لگا دیا۔ اس کے بعد پولیس نے مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جس سے کئی مزدور ہلاک و زخمی ہوئے۔ انہی زخمی مزدوروں میں سے ایک مزدور نے اپنی خون آلود قمیض کو ہوا میں لہرایا اور سرخ رنگ مزدوروں کا علامتی رنگ بن گیا اس ہنگامہ آرائی میں 6 پولیس والے اور 4 مزدور ہلاک ہوگئے۔ یہی سے مزدور تحریک کا آغاز ہوا جو ہم ہر سال یکم مئی کو مناتے ہیں۔ بعد میں مزدور رہنماؤں پر عدالتی مقدمے بنے عمر قید پھانسیاں ہوئیں۔ 11 نومبر 1887 کو مزدور رہنما اینجل ، فشر ، پارسن اور اسپائز کو پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی سے پہلے اسپائز نے کہا ، “غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گیں۔” فشر نے کہا “ہم خوش ہیں کہ ہم ایک اچھے مقصد کے لئے جان دے رہے ہیں” شاعر ، افسانہ نگار آسکر وائلڈ ، ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شا ، شاعر ولیم مورس ، ناول نگار ولیم ڈین ہوویل جیسے لوگوں نے اس مقدمہ کے فیصلے کی مذمت کی ۔ 1893 میں جب نیا ترقی پسند گورنر جان پیٹر ایلٹگیلٹ آ یا تو اس نے عمر قید والوں کی معافی دے دی بلکہ اس مقدمہ کی مذمت بھی کی۔ اس کی بعد باقاعدہ 1889 میں ریمنڈ لیون کی تجویز پر 1890 میں شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں پہلی مرتبہ یکم مئی منایا گیا۔ اور مزدوروں نے اپنی تحریک اور قربانیاں سے بہت سے نتائج حاصل کیے۔ 1۔ مزدوروں کے لئے 8 گھنٹے کام کے وقت کا تعین کیا گیا۔ 2۔ مزدوروں کے لئے ہفتہ وار چھٹی کا قانون بنایا گیا۔ 3۔ مزدوروں کو انجمن سازی یعنی ٹریڈ یونین کا حق دیا گیا ۔ 4 ۔ مزدوروں کو ملازمت کے تحفظ کا حق دیا گیا۔ 5 ۔ مزدوروں کے مقدمات کی سماعت کے لئے علیحدہ لیبر کورٹ قائم کی گئیں۔ 6 ۔ خواتین ورکرز کو دوران حمل خصوصی چھٹیوں کا قانون بنایا گیا وغیرہ وغیرہ ہم پاکستان میں اس قربانی کے لئے یوم مزدور مناتے ہیں ان کے نام پر سکون سے چھٹی انجوائے کرتے ہیں لیکن مزدور بے چارے کو سارا دن عزت کی روٹی کمانے کیلئے بے عزت ہونا پڑتا ہے۔ہم یکم مئی یوم مزدور کے نام پر فائیو سٹار ہوٹلوں میں لاکھوں کےخرچ کے ساتھ ہونے والے پروگراموں میں کسی مزدور کو کھانا کھانے کے لئے بھیج کر دیکھیں۔منافقت کے پردے چاک ہو جائیں گے۔ مہنگے ہوٹلوں میں مہنگے لباس زیب تن کر کے مزدور کے غم میں مگر مچھ کے ٹسوے بہانے سے بہتر ہے کہ مزدور اور محنت کش کے حقوق قائم کرنے والا بے غبار عادلانہ معاشی نظام قائم کیا جائے ۔ اِس ملک میں قانونِ معیشت جو روا ہے جنگل سے بھی بدتر بڑی ظلمت کی فَضا ہے تعلیم کا مو قع ہے نہ آسان ہے جینا پانی بھی یہاں صاف مُیسر نہیں پینا ویسے تو منا لیتے ہیں مزدور کا دن سب دیکھو تو سہی مل گئے کیا حق بھی اُنہیں اب

عنوان: یکم مئی یومِ مزدور،تاریخ اور ہم تحریر: رانا محمد افضل – rana.afzal990@gmail.com 0300-6060990 دن بھر کڑکتی دھوپ میں کرتا رہا جو کام اجرت ملی تو ہاتھ کے چھالوں پہ روپڑا یکم مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا دن منایا جاتا ہے یہ واحد دن ہے ، جس دن دنیا کی اکثریت بلا تفریق مذہب ، رنگ و نسل ،ملک ، زبان شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں چھٹی کرتے ہیں۔ سوائے امریکہ اور کینیڈا وہاں ستمبر کے پہلے Monday کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ لیبر ڈے کا پس منظر: یورپ و امریکہ میں صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دار طبقہ پیدا ہوا ، جس نے مزدوروں کا استحصال کرنا شروع کر دیا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے۔ مزدوروں سے 18 گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور کوئی چھٹی نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ کام کرنے کی جگہوں کے حالات نہایت خراب تھے ۔اس ظلم ، جبر ، غلامانہ طریقہ کار سے طبقاتی کشمکش پیدا ہوئی۔ جس سے دنیا بھر کی طرح امریکہ میں بھی مزدور تحریک کا آغاز ہوا یکم مئی 1886 کو تمام امریکہ میں مزدوروں نے ہڑتال کردی۔ یہ ہڑتال نہایت کامیاب اور پرامن رہی۔ 3 مئی کو پرامن ہڑتال جاری تھی کہ پولیس ایک فیکٹری میں گھس گئی اور 6/7 مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 4 مئی کو شکاگو Hey-Market کا واقعہ ہوا ۔مزدور تحریک کا اصل باب یہی واقعہ ہے جس کے نہایت دور رس نتائج برآمد ہوئے۔ اس کی تفصیلات بہت طویل اور پیچیدہ ہیں جس پر دنیا بھر میں بہت کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔واقعات کی ترتیب بہت طویل ہے جیسے مزدوروں کی پرامن ریلی ، بم پھینک کر مزدوروں پر فائرنگ ، گرفتاریاں ، مقدمے کی کارروائی ، عدالتی فیصلے وغیرہ وغیرہ 3 مئی کو پولیس کی فائرنگ سے مزدوروں کی ہلاکت پر احتجاج کرنے کے لئے 4 مئی کو شکاگو میں واقع Hey-Market میں مزدوروں نے پرامن ریلی نکالی تمام مزدوروں کی زبان پر ایک ہی ترانہ تھا۔ “Eight hours work day.” 4 مئی کی شام کو مزدور رہنماؤں نے جلسے سے تقاریر شروع کیں ۔ رات 10,30 بجے تقریر جاری تھی کہ پولیس آن پہنچی پولیس کو سرمایہ داروں نے پہلے ہی بہت زیادہ پیسوں کی فنڈنگ کر رکھی تھی پولیس نے خود دستی بم پھینکا جس سے ایک پولیس والا ہلاک چھ زخمی ہوگے اور اسکا الزام مزدوروں پر لگا دیا۔ اس کے بعد پولیس نے مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جس سے کئی مزدور ہلاک و زخمی ہوئے۔ انہی زخمی مزدوروں میں سے ایک مزدور نے اپنی خون آلود قمیض کو ہوا میں لہرایا اور سرخ رنگ مزدوروں کا علامتی رنگ بن گیا اس ہنگامہ آرائی میں 6 پولیس والے اور 4 مزدور ہلاک ہوگئے۔ یہی سے مزدور تحریک کا آغاز ہوا جو ہم ہر سال یکم مئی کو مناتے ہیں۔ بعد میں مزدور رہنماؤں پر عدالتی مقدمے بنے عمر قید پھانسیاں ہوئیں۔ 11 نومبر 1887 کو مزدور رہنما اینجل ، فشر ، پارسن اور اسپائز کو پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی سے پہلے اسپائز نے کہا ، “غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گیں۔” فشر نے کہا “ہم خوش ہیں کہ ہم ایک اچھے مقصد کے لئے جان دے رہے ہیں” شاعر ، افسانہ نگار آسکر وائلڈ ، ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شا ، شاعر ولیم مورس ، ناول نگار ولیم ڈین ہوویل جیسے لوگوں نے اس مقدمہ کے فیصلے کی مذمت کی ۔ 1893 میں جب نیا ترقی پسند گورنر جان پیٹر ایلٹگیلٹ آ یا تو اس نے عمر قید والوں کی معافی دے دی بلکہ اس مقدمہ کی مذمت بھی کی۔ اس کی بعد باقاعدہ 1889 میں ریمنڈ لیون کی تجویز پر 1890 میں شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں پہلی مرتبہ یکم مئی منایا گیا۔ اور مزدوروں نے اپنی تحریک اور قربانیاں سے بہت سے نتائج حاصل کیے۔ 1۔ مزدوروں کے لئے 8 گھنٹے کام کے وقت کا تعین کیا گیا۔ 2۔ مزدوروں کے لئے ہفتہ وار چھٹی کا قانون بنایا گیا۔ 3۔ مزدوروں کو انجمن سازی یعنی ٹریڈ یونین کا حق دیا گیا ۔ 4 ۔ مزدوروں کو ملازمت کے تحفظ کا حق دیا گیا۔ 5 ۔ مزدوروں کے مقدمات کی سماعت کے لئے علیحدہ لیبر کورٹ قائم کی گئیں۔ 6 ۔ خواتین ورکرز کو دوران حمل خصوصی چھٹیوں کا قانون بنایا گیا وغیرہ وغیرہ ہم پاکستان میں اس قربانی کے لئے یوم مزدور مناتے ہیں ان کے نام پر سکون سے چھٹی انجوائے کرتے ہیں لیکن مزدور بے چارے کو سارا دن عزت کی روٹی کمانے کیلئے بے عزت ہونا پڑتا ہے۔ہم یکم مئی یوم مزدور کے نام پر فائیو سٹار ہوٹلوں میں لاکھوں کےخرچ کے ساتھ ہونے والے پروگراموں میں کسی مزدور کو کھانا کھانے کے لئے بھیج کر دیکھیں۔منافقت کے پردے چاک ہو جائیں گے۔ مہنگے ہوٹلوں میں مہنگے لباس زیب تن کر کے مزدور کے غم میں مگر مچھ کے ٹسوے بہانے سے بہتر ہے کہ مزدور اور محنت کش کے حقوق قائم کرنے والا بے غبار عادلانہ معاشی نظام قائم کیا جائے ۔ اِس ملک میں قانونِ معیشت جو روا ہے جنگل سے بھی بدتر بڑی ظلمت کی فَضا ہے تعلیم کا مو قع ہے نہ آسان ہے جینا پانی بھی یہاں صاف مُیسر نہیں پینا ویسے تو منا لیتے ہیں مزدور کا دن سب دیکھو تو سہی مل گئے کیا حق بھی اُنہیں اب

عنوان: یکم مئی یومِ مزدور،تاریخ اور ہم تحریر: رانا محمد افضل – rana.afzal990@gmail.com 0300-6060990 دن بھر کڑکتی دھوپ میں کرتا رہا جو کام اجرت ملی تو ہاتھ کے چھالوں پہ روپڑا یکم مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا دن منایا جاتا ہے یہ واحد دن ہے ، جس دن دنیا کی اکثریت بلا تفریق مذہب ، رنگ و نسل ،ملک ، زبان شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں چھٹی کرتے ہیں۔ سوائے امریکہ اور کینیڈا وہاں ستمبر کے پہلے Monday کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ لیبر ڈے کا پس منظر: یورپ و امریکہ میں صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دار طبقہ پیدا ہوا ، جس نے مزدوروں کا استحصال کرنا شروع کر دیا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے۔ مزدوروں سے 18 گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور کوئی چھٹی نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ کام کرنے کی جگہوں کے حالات نہایت خراب تھے ۔اس ظلم ، جبر ، غلامانہ طریقہ کار سے طبقاتی کشمکش پیدا ہوئی۔ جس سے دنیا بھر کی طرح امریکہ میں بھی مزدور تحریک کا آغاز ہوا یکم مئی 1886 کو تمام امریکہ میں مزدوروں نے ہڑتال کردی۔ یہ ہڑتال نہایت کامیاب اور پرامن رہی۔ 3 مئی کو پرامن ہڑتال جاری تھی کہ پولیس ایک فیکٹری میں گھس گئی اور 6/7 مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 4 مئی کو شکاگو Hey-Market کا واقعہ ہوا ۔مزدور تحریک کا اصل باب یہی واقعہ ہے جس کے نہایت دور رس نتائج برآمد ہوئے۔ اس کی تفصیلات بہت طویل اور پیچیدہ ہیں جس پر دنیا بھر میں بہت کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔واقعات کی ترتیب بہت طویل ہے جیسے مزدوروں کی پرامن ریلی ، بم پھینک کر مزدوروں پر فائرنگ ، گرفتاریاں ، مقدمے کی کارروائی ، عدالتی فیصلے وغیرہ وغیرہ 3 مئی کو پولیس کی فائرنگ سے مزدوروں کی ہلاکت پر احتجاج کرنے کے لئے 4 مئی کو شکاگو میں واقع Hey-Market میں مزدوروں نے پرامن ریلی نکالی تمام مزدوروں کی زبان پر ایک ہی ترانہ تھا۔ “Eight hours work day.” 4 مئی کی شام کو مزدور رہنماؤں نے جلسے سے تقاریر شروع کیں ۔ رات 10,30 بجے تقریر جاری تھی کہ پولیس آن پہنچی پولیس کو سرمایہ داروں نے پہلے ہی بہت زیادہ پیسوں کی فنڈنگ کر رکھی تھی پولیس نے خود دستی بم پھینکا جس سے ایک پولیس والا ہلاک چھ زخمی ہوگے اور اسکا الزام مزدوروں پر لگا دیا۔ اس کے بعد پولیس نے مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جس سے کئی مزدور ہلاک و زخمی ہوئے۔ انہی زخمی مزدوروں میں سے ایک مزدور نے اپنی خون آلود قمیض کو ہوا میں لہرایا اور سرخ رنگ مزدوروں کا علامتی رنگ بن گیا اس ہنگامہ آرائی میں 6 پولیس والے اور 4 مزدور ہلاک ہوگئے۔ یہی سے مزدور تحریک کا آغاز ہوا جو ہم ہر سال یکم مئی کو مناتے ہیں۔ بعد میں مزدور رہنماؤں پر عدالتی مقدمے بنے عمر قید پھانسیاں ہوئیں۔ 11 نومبر 1887 کو مزدور رہنما اینجل ، فشر ، پارسن اور اسپائز کو پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی سے پہلے اسپائز نے کہا ، “غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گیں۔” فشر نے کہا “ہم خوش ہیں کہ ہم ایک اچھے مقصد کے لئے جان دے رہے ہیں” شاعر ، افسانہ نگار آسکر وائلڈ ، ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شا ، شاعر ولیم مورس ، ناول نگار ولیم ڈین ہوویل جیسے لوگوں نے اس مقدمہ کے فیصلے کی مذمت کی ۔ 1893 میں جب نیا ترقی پسند گورنر جان پیٹر ایلٹگیلٹ آ یا تو اس نے عمر قید والوں کی معافی دے دی بلکہ اس مقدمہ کی مذمت بھی کی۔ اس کی بعد باقاعدہ 1889 میں ریمنڈ لیون کی تجویز پر 1890 میں شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں پہلی مرتبہ یکم مئی منایا گیا۔ اور مزدوروں نے اپنی تحریک اور قربانیاں سے بہت سے نتائج حاصل کیے۔ 1۔ مزدوروں کے لئے 8 گھنٹے کام کے وقت کا تعین کیا گیا۔ 2۔ مزدوروں کے لئے ہفتہ وار چھٹی کا قانون بنایا گیا۔ 3۔ مزدوروں کو انجمن سازی یعنی ٹریڈ یونین کا حق دیا گیا ۔ 4 ۔ مزدوروں کو ملازمت کے تحفظ کا حق دیا گیا۔ 5 ۔ مزدوروں کے مقدمات کی سماعت کے لئے علیحدہ لیبر کورٹ قائم کی گئیں۔ 6 ۔ خواتین ورکرز کو دوران حمل خصوصی چھٹیوں کا قانون بنایا گیا وغیرہ وغیرہ ہم پاکستان میں اس قربانی کے لئے یوم مزدور مناتے ہیں ان کے نام پر سکون سے چھٹی انجوائے کرتے ہیں لیکن مزدور بے چارے کو سارا دن عزت کی روٹی کمانے کیلئے بے عزت ہونا پڑتا ہے۔ہم یکم مئی یوم مزدور کے نام پر فائیو سٹار ہوٹلوں میں لاکھوں کےخرچ کے ساتھ ہونے والے پروگراموں میں کسی مزدور کو کھانا کھانے کے لئے بھیج کر دیکھیں۔منافقت کے پردے چاک ہو جائیں گے۔ مہنگے ہوٹلوں میں مہنگے لباس زیب تن کر کے مزدور کے غم میں مگر مچھ کے ٹسوے بہانے سے بہتر ہے کہ مزدور اور محنت کش کے حقوق قائم کرنے والا بے غبار عادلانہ معاشی نظام قائم کیا جائے ۔ اِس ملک میں قانونِ معیشت جو روا ہے جنگل سے بھی بدتر بڑی ظلمت کی فَضا ہے تعلیم کا مو قع ہے نہ آسان ہے جینا پانی بھی یہاں صاف مُیسر نہیں پینا ویسے تو منا لیتے ہیں مزدور کا دن سب دیکھو تو سہی مل گئے کیا حق بھی اُنہیں اب